سپریم کورٹ عدالتی اصلاحات قانون کیخلاف حکم امتناع واپس لے، پاکستان بار کونسل

سپریم کورٹ عدالتی اصلاحات قانون کیخلاف حکم امتناع واپس لے، پاکستان بار کونسل

[ad_1]

 اسلام آباد: پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ سے عدالتی اصلاحات قانون کے خلاف حکم امتناع واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔

پاکستان بار کونسل نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ نے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون بنایا، عدالتی اصلاحات قانون وکلاء برادری کی دو دہائیوں کی جد و جہد کا نتیجہ ہے، سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈر ایکٹ 2023 متاثرہ فریق کو اپیل کا حق دیتا ہے، متاثرہ فریق کو اپیل کا حق دینا اشرافیہ کے لیے نہیں عام عوام کے لیے فائدہ مند قانون ہے۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈر قانون کو معطل نہ کرے، آڈیو لیکس کمیشن ٹی او آر کے مطابق آزادانہ طور پر کام کر کے اپنی رپورٹ وفاقی حکومت کو پیش کرے، آڈیو لیکس کی تصدیق کر کے عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا چاہیے، لائرز ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2023 کو عملی طور پر نافذ کیا جائے،حکومت تمام صوبوں کے انسپکٹر جنرلز کو مذکورہ قانون کے تحت دفعات کے ساتھ ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے۔

پاکستان بار نے مطالبہ کیا کہ وزارت قانون فوری طور پر وکلا تحفظ قانون کے تحت رولز بنائے تاکہ وکلا نئے قانون سے مستفید ہو سکیں، اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی سنیارٹی، فٹنس اور میرٹ کی بنیاد پر ہونی چاہیے، تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جوڈیشل کمیشن کے نئے رولز بنائے جائیں،اگر نئے رولز نہیں بنتے تو پرانے طریقہ کار کے تحت ججز کی تعیناتی کی جائے۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن کی دوبارہ تشکیل کرے اور بارز کو مناسب نمائندگی دی جائے، سپریم کورٹ میں ججز کی خالی نشستوں پر خیبرپختونخوا اور متعلقہ صوبے سے تعیناتی کی جائے، عام شہریوں کے ملٹری کورٹس میں ٹرائل کی مخالفت کرتے ہیں،  نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے ٹرائلز انسدادِ دہشتگردی کی عدالتوں میں چلائے جائیں، انسداد دہشتگردی کی عدالتوں سات دنوں میں مقدمات کا فیصلہ کریں، انسدادِ دہشتگردی کی عدالتوں کو اس ضمن میں تمام سہولیات میسر ہیں۔

پاکستان بار کونسل نے مطالبہ کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل کے لیے گرینڈ ڈائیلاگ کا آغاز کریں، پاکستان بار کونسل سیاسی جماعتوں میں مفاہمت کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، پاکستان بار کونسل نے کوئٹہ میں وکیل کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کل ملک بھر میں عدالتوں کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا اور کہا ہے کہ 8 جون کو مقتول وکیل کے اہلخانہ سے ہمدردی کے اظہار کے طور پر کوئی وکیل عدالتوں میں پیش نہیں ہوگا، جون کے تیسرے ہفتے میں ملک بھر کی بار کونسلوں اور بار ایسوسی ایشنوں کا نمائندہ اجلاس پشاور میں ہوگا۔



[ad_2]

Leave a Reply

Back To Top
Theme Mode