جامعہ اردو میں وائس چانسلر کی تقرری نہ ہونے سے ملازمین کی تنخواہیں رک گئیں

Jun 2, 2023 0 Comments

  کراچی: ایوان صدر اور وفاقی وزارت تعلیم کے مابین وفاقی اردو یونیورسٹی کے معاملے پر جاری کشمکش  کے باعث  یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا تقرر نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین کی تنخواہیں رک گئی ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق ایوان صدر اور وفاقی وزارت تعلیم کے مابین وفاقی اردو یونیورسٹی کے معاملے پر  کشمکش جاری ہے جس کی وجہ سے یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی تقرری نہ ہونے کے سبب ملازمین کی تنخواہیں رک گئی ہیں اور کراچی و اسلام آباد کے کیمپسز کے 1400 ملازمین کو اس بار مئی کے مہینے کی تنخواہیں نہیں ملیں گی۔

یونیورسٹی کے اسائنمنٹ اکاؤنٹ میں تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے مطلوبہ فنڈ موجود نہیں ہے اور یونیورسٹی میں وائس چانسلر نہ ہونے کے سبب دیگر اکاؤنٹس سے فنڈز منتقل ہونا ممکن نہیں رہا،  اردو یونیورسٹی کے آفیشل ذرائع نے تنخواہیں رک جانے کی تصدیق کردی ہے۔

واضح رہے کہ اردو یونیورسٹی کا ماہانہ “پے رول” 170 ملین روپے سے زائد ہے جس میں 100 ملین کراچی کے دونوں کیمپسز، 40 ملین اسلام آباد کیمپس ، 28 ملین پینشن جبکہ 7 ملین کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں ادا ہوتے ہیں۔

مزید برآں 25 ملین روپے کے لگ بھگ رقم سے ہائوس سیلنگ کی ادائیگی ہوتی ہے ، ایچ ای سی یونیورسٹی کے اسائنمنٹ اکاؤنٹ میں جو رقم منتقل کرتی ہے اس سے براہ راست تنخواہیں ادا کردی جاتی ہیں تاہم اس وقت اسائنمنٹ اکاؤنٹ میں مطلوبہ رقم کا 50 فیصد بھی موجود نہیں ہے جس سے تنخواہیں جاری ہوسکیں۔

یاد رہے کہ عید الفطر سے قبل یونیورسٹی ملازمین کو عید ایڈوانس تنخواہ کے طور پر 19 اپریل کو ہی سیلری جاری کردی گئی تھی تاہم اب مئی کی تنخواہ اس لیے جاری نہیں ہوسکتی کہ دیگر اکاؤنٹس سے رقم نکلوانے کے لیے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی منظوری لازمی ہے مگر تقریباً تین ماہ سے یونیورسٹی کا کوئی وائس چانسلر نہیں ہے۔

آخری یا سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء الدین کو وزارت تعلیم نے ایک خط کے ذریعے یہ کہہ کر عہدے سے سبکدوش کردیا تھا کہ یونیورسٹی کی سینیٹ کے فیصلے کے تحت این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سروش لودھی کے انکار کی صورت میں ڈاکٹر ضیاء الدین مزید دو ماہ تک اس عہدے پر کام کرسکتے ہیں لہذا دو ماہ پورے ہونے پر انھیں عہدے سے ہٹادیا گیا۔
یونیورسٹی ذرائع کہتے ہیں کہ اب یہ معاملہ اسائنمنٹ اکائونٹ میں ایچ ای سی کی جانب سے مزید فنڈز منتقل کرنے یا وائس چانسلر کے تقرر سے ہی حل ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب وزارت تعلیم کے اس فیصلے سے سینیٹ کی ایمرجنسی کمیٹی نے اختلاف کیا اور اپنے منعقدہ ایک اجلاس کی روداد جاری کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کے اجلاس کی روداد فیصلوں کے برعکس جاری کی گئی ہے۔

سینیٹ نے ڈاکٹر سروش لودھی کے انکارکی صورت میں ڈاکٹر ضیاء الدین کو مستقل وائس چانسلر کے تقرر تک عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا مگر فیصلے میں دو ماہ کی مدت کا ذکر نہیں تھا ، تاہم روداد میں مدت دے دی گئی جو فیصلے کے برخلاف ہے۔
یاد رہے کہ اردو یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر اور اراکین سینیٹ کے تقرر کے معاملے پر ایوان صدر اور وفاقی وزارت تعلیم میں اختلاف ہے جسے بیورو کریٹک ڈیڈ لاک کہا جارہا ہے،  تین ماہ سے یونیورسٹی کا کوئی وائس چانسلر نہیں ہے جس کا نتیجہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔


Leave A Comment

To Top