بزرگوں کو توانا رکھنے والی صدیوں پرانی آسان چینی ورزش

بزرگوں کو توانا رکھنے والی صدیوں پرانی آسان چینی ورزش

[ad_1]

ہزار سال پرانی شوائی شو گونگ ورزش سے بزرگ افراد غیرمعمولی فائدہ اٹھاسکتے جو اس تصویر میں بھی نمایاں ہے۔ فوٹو: فائل

ہزار سال پرانی شوائی شو گونگ ورزش سے بزرگ افراد غیرمعمولی فائدہ اٹھاسکتے جو اس تصویر میں بھی نمایاں ہے۔ فوٹو: فائل

بیجنگ: اگرآپ کی عمر 60 برس یا اس سے زائد ہے تو ایک آسان چینی ورزش سے اپنے روزمرہ امور بہتر بناسکتے ہیں۔ اگرچہ یہ 1000 سال پرانی تکنیک ہے لیکن اس سے مزید ثبوت برطانیہ سے ملے ہیں۔

اس ورزش کا نام ’شوائی شو گونگ‘ ہے جو 60 اور 70 کی دہائی والے مردوزن کے پورے جسم پر مثبت اثرڈالتے ہوئے ان کے افعال بہتر کرسکتی ہے۔ ان میں کھانا پکانا، چلنے میں متوازن رہنا، اور لباس بدلنے جیسے امور بھی شامل ہیں۔

شوائی شو گونگ کا آسان طریقہ

اس ورزش میں بازوؤں کو ایک ہموار اور باقاعدہ انداز میں آگے پیچھے جھولے کی طرح ہلایا جاتا ہے۔ ایک سیٹ میں بازوؤں کو پانچ مرتبہ ہلایا جاتا ہے۔ لیکن پہلی چار حرکات میں بازو کچھ اس طرح ہلائے جاتے ہیں کہ وہ کندھے کی سیدھ میں آجاتے ہیں۔

اب پانچویں مرتبہ بازو ہلاتے ہوئے دو گھٹنوں کو دو مرتبہ موڑا جاتا ہے لیکن یہ عمل عین اس وقت کیا جائے جب بازو پیچھے جارہے ہوں اور دوبارہ بازو آگے آرہے ہوں تب دوسری مرتبہ گھٹنوں کو موڑا جائے۔

شوائی شو گونگ کی تفصیل آگے آئے گی لیکن اب جامعہ ایڈنبرا میں پروفیسر نیل رابرٹس نے اس پر مفصل تحقیق کرکے شوائی شو گونگ ورزش کی افادیت ثابت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بزرگ یہ آسان ورزش پر فوری مہارت حاصل کرسکتے ہیں اور اس سے مجموعی صحت پربہت مثبت اثر ہوتا ہے.


سادہ ورزش سے کولہے، رانیں اور اس سے وابستہ پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔ بازو ہلانے سے کندھے کہنی اور اطراف کے پٹھے توانا ہوتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر خون کی رگوں میں بہاؤ اچھا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سادہ ورزش جادوئی خواص رکھتی ہیں اور اس میں مشکل سے چند منٹ لگتے ہیں۔

پروفیسر نیل رابرٹس نے اپنی جامعہ میں 60 سے 80 سال کے افراد کو بلایا جن میں 56 خواتین بھی شامل تھیں۔ ماہرین نے تمام رضاکاروں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا۔ ان میں سے ایک گروپ کو ہفتے مٰں تین مرتبہ 40 منٹ تک یہ ورزش کرائی گئی جس کا دورانیہ دو ماہ تک جاری رہا۔

دوسرے گروہ کو ایسی کوئی ورزش نہیں کرائی گئی۔ اب جن خواتین و حضرات نے ورزش کی تھی ان میں اٹھنے بیٹھنے، کام کاج کرنے اور روزمرہ معمولات میں بہتری دیکھی گئی۔ اس کے علاوہ ان کے بدن میں لچک بھی بڑھی تھی۔

ماہرین کا اصرار ہے کہ یہ ورزش دماغی صحت کے لیے فائدہ مند بھی ہے اور بڑھاپے کو بھی روک سکتی ہے۔



[ad_2]

Leave a Reply

Back To Top
Theme Mode